Sunday, July 12, 2015

سورۃ القدر



سورۃ القدر
تحریر: محمد اکبر


 ’’ تحقیق نازل کیا ہم نے اس ( قرآن ) کو بیچ رات قدر کے٭اور کیا جانے تو کیا ہے رات قدر کی٭ رات قدر کی بہتر ہے ہزار مہینے سے٭ اترتے ہیں فرشتے اور روح پاک بیچ اس کے ساتھ حکم پروردگار اپنے کے واسطے ہر کام کے ٭ سلامتی ہے وہ یہاں تک کہ طلوع ہو فجر٭ (سورۃ القدر /  97 : 1تا5)

قدر کی رات لیلۃالقدر
 حدیثوں سے ظاہر ہے کہ یہ رات ماہ رمضان شریف کے آخری دہے (دہائی) میں آتی ہے اور اس بات کا ثبوت قرآن پاک میں بھی ہے کہ فرمایا گیا
 ’’قسم ہے فجر کی٭ اور راتوں دس کی٭ اور جفت کی اور طاق کی٭ اور رات کی جب چلنے لگے ‘‘ (سورۃ الفجر /  1:89تا 4)
قرآن پاک کی ان آیات میں بھی سارا ذکر قدر کی رات کا ہے کہ فجر کا ذکر آیا ، دس راتوں کا ذکر آیا جو رمضان شریف کا آخری دہا (دہائی / عشرہ)ہے اور جفت اور طاق کا ذکر بتلا رہا ہے کہ وہ رات جفت رات یا طاق راتوں کا پابندنہیں ہے کوئی بھی رات قدرکی ہو سکتی ہے چاہے وہ جفت رات ہو یا طاق ۔
 توجہ:   ایسا مشاہدہ دیکھنے میں آتا ہے کہ جب سعودی عرب میں چاند نظر آجاتاہے تو مشرق میں پاکستان میں چاند اگلے دن نظرا ٓتا ہے ۔اس طریقے سے رات ایک ہی چلتی ہے اگر سعودی عرب میں طاق رات ہو گی تو پاکستا ن میں ( اگر اگلے دن چاند نظر آیا ہو ) وہ رات جفت ہو گی ۔اگر قدر کی رات سعودی عرب میں طاق رات میں آئے گی تو پاکستان میں جفت رات میں آئے گی اس لیے اللہ تعالیٰ دس راتوں کے ساتھ جفت اور طاق بھی کہا “اور رات کی جب چلنے لگے”سے مراد رات کے آخری حصہ تک ۔
لیکن توجہ سورۃ القدر کی اس آیت کی طرف “اترتے ہیں فرشتے اور روح پاک بیچ اس کے ٭ساتھ حکم پروردگار اپنے کے واسطے ہر کام کے” الفاظ  “مِّن کُلِّ أَمْرٍ” واسطے ہر کام کے مطلب یہ کہ تمام کام کے لیے اس رات یعنی قدر کی رات حکم دئیے جاتے ہیں اور لکھے جاتے ہیں وغیرہ یہ کُلِّ أَمْر واسطے ہر کام کے۔ یہ ہر کام کون کون سے ہیں؟  جب واسطے ہر کام کا الفاظ آئے تو پوچھنے کی ضرورت نہیں کہ تمام کام آگئے زندگی کے موت کے رزق کے روزی کے وغیرہ۔

 توجہ:   جب ہر کام کا حکم اس رات دے دیا گیا تو پھر کسی اور رات کے لیے کوئی بھی کام نہ بچا کہ کسی اور رات کے لیے بقایا بچایا گیا ہو اور یہ کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعے احکام پرعمل درآمد کرا رہا ہے اور سورۃ القدر میں اس آیت میں فرما یا کہ “; اترتے ہیں فرشتے اور روح پاک بیچ اس کے یہ الفاظ ثابت کر رہے ہیں کہ واقعی اسی رات فرشتوں کو تمام کام احکام بتلا دئیے جا تے ہیں زندگی دینے کے ، موت کے، روزی کے، رزق کے اور اس کے علاوہ اور کوئی رات نہیں کہ جس میں یہ کام ہو اگر دوسری راتوں میں اسی قسم کے احکام دئیے جاتے تو پھر یہ رات افضل نہ ہوتی ۔


Wednesday, May 27, 2015

Who is Dhul-Qarnayn?

Who is Dhul-Qarnayn?
Written By: Muhammad Akbar
Summarized By: Muhammad Ameen
(For Original Urdu Article Click Here)


An Islamic scholar Muhammad Akbar claimed with his research based on Quran that Dhul-Qarnayn is the second name of Solomon, just like Jacob is later called Israel. His theory is based on following points:
  1. According to Quran, Solomon can travel from far awary east and west because air obey Solomon’s order, he used to travel morning and evening daily as distance as ordinary human can travel in a month.
  2. Dhul-Qarnayn is not only a king but also a Prophet of Allah, who is in contact with Allah as mentioned in Quran Chapter 18 Verse 86, Allah said, "We said: "O thou Two-Horned One! Thou mayest either cause [them] to suffer or treat them with kindness!". While other two names (Alexander the Great and Cyrus the Great) describes as Dhul-Qarnayn are not Prophet but Solomon was great king as well as a Prophet of Allah.
  3. Dhul-Qarnayn refused to accept any reward for building great wall between two mountains because he already had much wealth given by Allah. The project consume so much copper. It also need to provide melt copper to the height of mountains. According to Quran only Solomon has such reserve of copper and work force to perform such work, as mentioned in Quran Chapter 34 Verse 12 and 13.
  4. The style of talk to Solomon and Dhul-Qarnayn is similar to each other as mention in Quran Chapter 18 Verse 97 and Chapter 27 Verse 36. Also Quran Chapter 18 Verse 96 and Chapter 38 Verse 39.
  5. According to Quran's Chapter 27 Verse 16 Solomon was familiar with even the language of birds. According to Quran's Chapter 18 Verse 93 Dhul-Qarnayn reached between two mountain and nation lived there could not understand the language of army of Dhul-Qarnayn, but according to Chapter 18 Verse 94 Dhul-Qarnayn understood their language, their request for building a wall. This was because of Solomon who can even understood the language of bird easily understood their language.
  6. In the Bible Solomon prays such kingdom, which is blessed to Dhul-Qarnayn.
  7. Shows from Bible at the time of Solomon people wear two horn top

Monday, October 6, 2014

واقعہ ذبح اسماعیل یا اسحاق





واقعہ ذبح اسماعیل یا اسحاق
تحریر: محمد اکبر
”اے رب میرے بخش مجھ کو اولاد صالحوں میں سے٭ پس بشارت دی ہم نے اس کو ساتھ ایک لڑکے تحمل والے کے٭ پس جس وقت پہنچا ساتھ اس کے دوڑنے کو کہا اے چھوٹے بیٹے میرے تحقیق میں دیکھتا ہوں بیچ خواب کے کہ تحقیق میں ذبح کرتا ہوں تجھ کو پس دیکھ کیا دیکھتا ہے تو کہا اے باپ میرے کر جو کچھ حکم کیا جاتاہے تو شتاب پاوے گا تومجھ کو اگر چاہا اللہ نے صبر کرنے والوں سے٭ پس جب مطیع ہوئے دونوں حکم الٰہی کے پچھاڑ اس کو ماتھے پر٭ اور پکارا ہم نے اس کو اے ابراہیم ٭تحقیق سچ کیا تو نے خواب کو تحقیق ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو٭ تحقیق یہ با ت وہی ہے آزمائش ظاہر٭ اور چھٹا لیا ہم نے اس کو بدلے قربانی بڑی کے٭ اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے بیچ پچھلوں کے٭ سلامتی ہوجیو اوپر ابراہیم کے ٭اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم احسان کر نے والوں کو٭ تحقیق وہ بندوں ہمارے ایمان والوں سے تھا٭ اور بشارت دی ہم نے اس کو ساتھ اسحاق کے جو نبی تھا صالحوں سے ٭اور برکت دی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے اور اولاد ان دونوں کی سے احسان کرنے والے بھی ہیں اور ظلم کرنے والے بھی ہیں اپنی جان پر ظاہر٭“ (سورۃ الصافات / 37 : 100 تا 113)
ذبح سے متعلق اختلاف پایا جاتاہے۔ بائبل میں حضرت اسحاق علیہ السلام کا نام لکھا ہے۔
”پیدائش:باب22 : 2۔تب اُس نے کہا کہ تُو اپنے بیٹے اضحاق کو جو تیرا اکلوتا ہے اور جسے تُو پیار کرتا ہے ساتھ لیکر موریاہ کے ملک میں جا اور وہاں اُسے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر جو میں تجھے بتاؤنگا سوختنی قربانی کے طور پر چڑھا“
”عِبرانیوں: باب 11: 17۔اِیمان ہی سے ابرہام نے آزمایش کے وقت اِضحاق کونذر گْذرانا اور جِس نے وعدوں کو سَچ مان لِیا تھا وہ اْس اِکلوتے کو نذر کرنے لگا“
مسلمان علماء حضرت اسماعیل علیہ السلام سے منسوب کرتے ہیں۔ تفسیر ابن کثیر میں بھی اس بارے میں چپقلش پائی گئی ہے کہ کچھ صحابہ کرام نے بھی حضرت اسحاق علیہ السلام کہا۔ اصل حقیقت اللہ تعالیٰ کی اللہ جانے۔ شاہ رفیع الدین نے ترجمے میں اسے چھوٹے بیٹے لکھا ہے چھوٹا بیٹا تو حضرت اسحاق علیہ السلام تھے اور ان آیات میں ذکر حضرت  اسحاق علیہ السلام کا ہے ۔
 توجہ:   حضرت اسماعیل علیہ السلام اماں حاجرہ سے پیدا ہوئے تھے جو لونڈی (غلام ) تھیں جبکہ حضرت اسحاق علیہ السلام حضرت ساحرہ بی بی سے تھے۔
”گلتیوں: باب 4 : 22۔ یہ لکھا ہے کہ ابرہام کے دو بیٹے تھے۔ ایک لونڈی سے۔ دوسرا آزاد سے“
حقیقی وارث اولاد او ر غلام اولاد سے محبت میں فرق ہوتا ہے۔ امتحان حقیقی اولاد کے بارے میں ہو گا یا غلام کے بارے میں۔

بہرحال اس واقعہ سے سبق دیا گیا ہے۔ کہ قربانی (صدقہ) موت کو ٹال دیتی ہے۔ یہ قربانی کرنا نوری عملیات میں سے بہت بڑا عمل ہے۔



Monday, September 29, 2014

معراج کی حقیقت




Meeraj Ki Haqeqat
By: Muhammad Akbar
معراج کی حقیقت
تحریر:محمد اکبر










 معراج کے بارے میں قرآن پاک میں دو جگہ سورۃ بنی اسرائیل اور سورۃ النجم میں ذکر آیا ہے۔
ترجمہ از شاہ رفیع الدین محدث دہلوی
”پاکی ہے اس شخص کوکہ لے گیابندے اپنے کورات کو مسجد حرام سے طرف مسجداقصیٰ کی وہ جو برکت دی ہم نے گرد اس کے کو تو کہ دکھلا ویں ہم اس کو نشانیوں اپنی سے تحقیق وہ ہے سننے والا دیکھنے والا“ (سورۃ بنی اسرائیل  / 17 : 1)
قسم ہے تارے کی جب گرے۔1۔نہیں بہک گیا یا ر تمہارا اور نہ راہ سے پھر گیا ۔2۔اور نہیں بولتا خواہش اپنی سے۔3۔ نہیں وہ مگر وحی کہ بھیجی جاتی ہے۔4۔سکھایا اس کوسخت قوتوں والے نے ۔5۔صاحب قوت ہے پس پورا نظر آیا ۔6۔  اور وہ بیچ کنارے بلندکے تھا ۔7۔پھر نزدیک ہوا پس اُتر آیا ۔8۔  پس تھا قد ردو کمان کے یازیادہ نزدیک ۔9۔پس وحی پہنچائی ہم نے طرف بندے اپنے کے جو پہنچائی ۔ 10۔نہیں جھوٹ بولا دل نے جو کچھ دیکھا۔ 11۔کیا پس جھگڑتے ہو تم اس سے اُوپر اس چیز کے کہ دیکھا ہے ۔ 12۔اور البتہ تحقیق دیکھا ہے اس نے اس کو ایک بار اور ۔13۔نزدیک سدرۃ المنتہیٰ کے۔14۔  نزدیک اس کے ہے جنت الماویٰ ۔15۔جس وقت کہ ڈھانکا تھا بیری کو جو کچھ ڈھانک رہا تھا ۔16۔  نہیں کجی کی نظر نے اور نہ زیادہ بڑھ گئی ۔ 17۔تحقیق دیکھا اس نے نشانیوں پروردگار اپنے کی سے بڑی کو ۔18“ (سورۃ النجم / 53 : 1تا  18)
سورۃ بنی اسرائیل کی آیت نمبر1 میں ذکر کیا گیا ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف لے جایا گیا۔ راستے میں کیا کیا ہوا اور پھر مسجد اقصیٰ سے آسمان پر لے جایا گیا اس بارے میں پڑھنے والوں کو بہت مواد اور تفصیل مل جاتی ہے۔یہ بندہ صرف سورۃ النجم کی آیت نمبر1تا 18 کی تشریح اورتفسیر لکھنا چاہتا ہے۔ ان آیات کی تشریح اور تفسیر لکھنے سے پہلے یہ بھی بہت ضروری سمجھتاہے کہ ان آیات کا ترجمہ از شاہ عبدالقادر شاہ صاحب محدث دہلوی بھی ضرور لکھا جائے۔لہٰذا پیش خدمت ہے۔
”قسم ہے تارے کی جب گرے۔1۔ بہکا نہیں تمہارا رفیق، اور بے راہ نہیں چلا ۔2۔ اور نہیں بولتا اپنی چاؤ سے۔3۔یہ تو حکم ہے جوپہنچتا ہے۔4۔ اس کوسکھایا سخت قوتوں والے نے۔5۔ زور آور نے پھرسیدھا بیٹھا (سیدھا کھڑا ہو گیاتھا)۔ 6۔ اور وہ تھااونچے کنارے آسمان کے۔ 7۔ پھر نزدیک ہوا اور لٹک آیا۔8۔پھر رہ گیا فرق دوکمان کامیانہ یا اس سے بھی نزدیک ۔ 9۔ پھر حکم بھیجا اللہ نے اپنے بندے پر جو بھیجا۔ 10۔جھوٹ نہ دیکھا دل نے جودیکھا۔11۔اب تم کیا اس سے جھگڑتے ہو اس پر جو اس نے دیکھا؟۔ 12۔اور اس کو اس نے دیکھا ہے ایک دوسرے اتارے میں۔13۔پرلی حد کی بیری پاس۔14۔ اس پاس ہے بہشت رہنے کی۔ 15۔جب چھا رہا تھا اس بیری پر جو کچھ چھا رہا تھا۔16۔بہکی نہیں نگاہ اور حد سے نہیں بڑھی۔ 17۔ بے شک دیکھے اپنے رب کے بڑے نمونے۔ 18“ (سورۃ النجم  /   53 : 1تا 18)

تشریح 
”قسم ہے تارے کی جب گرے۔1“
اللہ تعالیٰ نے ستارے کی قسم کھائی ۔کونسے ستارے کی قسم کھائی یا کسی چیز کو ستارہ کہہ کر قسم کھائی؟ کچھ پتہ نہیں چلتا ۔اللہ کے راز اللہ جانے لیکن یہ صاف معلوم ہوتاہے کہ قسم کھا کر جو بات کی جارہی ہے وہ بات خاص اور وزن والی ہے۔ ایک سمجھنے والے نے ستارے سے مراد قرآن پاک لیامگر مجھے تو قرآن پاک کی تمام آیات ہی ستارے نظر آتے ہیں بلکہ ایک ایک آیت میں بھی کئی کئی ستارے موجود ہیں۔
”نہیں بہک گیا یا ر تمہارا اور نہ راہ سے پھر گیا ۔2۔اور نہیں بولتا خواہش اپنی سے۔3۔نہیں وہ مگر وحی کہ بھیجی جاتی ہے۔4۔سکھایا اس کوسخت قوتوں والے نے۔5“
قرآن پاک کی آیات کا ترجمہ خود ہی مفہوم تشریح اور تفسیر ہوتا ہے کہ اس کی تشریح یا تفسیر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ان آیات میں صاف بتلایا جا رہا ہے کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وحی معراج سے متعلق جو بھی باتیں کر رہے ہیں یا کیں یہ بہکی ہوئی باتیں نہیں حقیقت پر مبنی ہیں۔ اس سخت قوتوں والے سے مرادحضرت جبرائیل امین علیہ السلام ہے۔
”صاحب قوت ہے پس پورا نظر آیا۔6۔ اور وہ بیچ کنارے بلندکہ تھا۔7۔پھر نزدیک ہوا پس اُتر آیا۔8۔  پس تھا قد ردو کمان کے یازیادہ نزدیک ۔9۔پس وحی پہنچائی ہم نے طرف بندے اپنے کے جو پہنچائی۔ 10۔نہیں جھوٹ بولا دل نے جو کچھ دیکھا۔ 11“
صاحب قو ت ہے حضرت جبرائیل علیہ السلام ۔پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام کے صاحب قوت ہونے کا مظاہرہ دیکھلا یا گیایوں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کا وجود پورا نظر آیا یعنی اتنا بڑا ہوتا چلا گیاکہ جس سے پورا آسمان حضرت جبرائیل علیہ السلام کے وجود سے بھر گیااور حضرت جبرائیل علیہ السلام بلندی میں اس کنارے تک پہنچ گئے کہ جہاں سے اللہ تعالیٰ سے وحی حاصل کرتے تھے۔ وحی حاصل کرنے کے بعد پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک ہونا شروع ہوئے اور واپس ہوتے ہوئے اتر آئے۔ شاہ عبدالقادر شاہ صاحب کے ترجمہ کے مطابق لٹک آئے۔ دونوں ہی ترجمے بہت بہترین لکھے ہوئے ہیں۔
”پس تھا قد ردو کمان کے یازیادہ نزدیک ۔9“
اس آیت سے متعلق اللہ تعالیٰ نے اس بندہ کو ایک خاص سمجھ عطا فرمائی ہے کہ جو آج تک کسی کو بھی نہ آئی۔ اس آیت سے علماء آج تک جو مطلب لیتے رہے وہ یوں کہ پھر یوں ہوا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کا اور حضور پاک حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آپس میں پاؤں سے پاؤں کا فاصلہ دو کمان یا اس سے بھی کم رہ گیا ۔یہ مفہوم غلط ہے۔ عالم دنیا میں بھی حضرت جبرائیل علیہ السلام بہت دفعہ وحی لے کر آئے اور کئی بار ایسا ہوا ہو گاکہ حضرت جبرائیل علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آپس میں زمین سے زمین تک کا فاصلہ دو کمان یاا س سے بھی کم ہو گالیکن قرآن پاک کی معراج والی آیات میں یہ فرمایا کہ ”پس تھا قد ردو کمان کے یازیادہ نزدیک“  اس کا اصل مفہوم یہ کہ پہلے حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی حاصل کرنے کے لیے اتنے بڑے وجود کے بن گئے کہ ان کے وجود سے آسمان بھر گیا پھر وحی حاصل کرنے کے بعد حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اترنا شروع ہو ئے اور لٹک آئے اور اپنا اتنا وجود بنا لیا کہ انکا قد زمین پاؤں سے بلندی کی طرف دو کمان یا اس سے بھی کم رہ گیا مطلب وہ انسانی قد کاٹھ میں آ گئے اور انسانی قد کاٹھ میں آنے کے بعد حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وحی پہنچائی۔ یہ لکھا جانا کہ ”پس تھا قد ردو کمان کے“اس سے مراد زمین سے بلندی کی طرف کا فاصلہ ہے نہ کہ زمین سے زمین کی طرف کا فاصلہ۔
یہ مفہوم جو کہ اس بندہ نے لکھا ہے یہ بندہ انتہائی یقین اور دعوے سے کہتا ہے کہ یہ اس آیت کا مفہوم صحیح اور سچ لکھا ہے جو کہ آج تک کسی نے نہیں لکھا۔
قریب المرگ لوگوں میں سے کچھ لوگوں نے فرشتوں کو اس طرح سے دیکھا ہے کہ ان کے قد آسمان کے برابر تھے اور پھر اتنے چھوٹے ہوئے کہ ایک بالشت یا ایک فٹ کے بن گئے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ معراج میں حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے یہ عمل صرف ایک بار کیا یا کئی بار؟ جیسے کہ مشہور ہے کہ پچاس نمازیں فرض ہوئیں اور کم ہوتے ہوئیں پانچ رہ گئیں۔ اس کامطلب ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے یہ بار بار کیا یعنی حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام اللہ تعالیٰ تک پہنچایا اور اللہ تعالیٰ کی وحی حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچائی۔ ان آیات سے یہ کہنا بھی غلط ہو جاتا ہے کہ معراج پر حضرت جبرائیل علیہ السلام کے پر جلنے لگے اور وہ آگے نہ جا سکے اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے چلے گئے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ تمام باتیں اور وحی جبرائیل امین علیہ السلام کے ذریعے سے ہوئیں۔
”کیا پس جھگڑتے ہو تم اس سے اُوپر اس چیز کے کہ دیکھا ہے۔ 12“
معراج کے بارے میں کفاریہ جھگڑا کرتے تھے کہ یہ بہکی ہوئی باتیں ہیں اور جھوٹ باتیں ہیں ایسا ہو نہیں سکتا لیکن یہ بندہ مسلمانوں میں بھی اس معراج کے معاملہ میں جھگڑا سنتا ہے اور ایسے مسلمان کہ جن کے دلوں میں کجی(مرض ٹیڑھا پن)پڑ چکا ہے وہ اِن معراج والی آیات کی غلط تشریح کرنے لگ جاتے ہیں۔وہ یوں کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج کی رات اللہ تعالیٰ سے براہ راست آمنے سامنے باتیں کیں اور اللہ تعالیٰ اور حضر ت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آپس کا فاصلہ دو کمان کے برابر تھا اور یہ کہ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو اپنی ہی شکل میں دیکھا(نعوز باللہ)اور ان باتوں کو شعرو شاعری میں ڈھال رکھا ہے کہ سننے والوں پر گہرا اثر پڑے۔ اس بندے نے ان باتوں کا لوگوں پر گہرا اثر پڑتے ہوئے دیکھاہے ۔
”پس وحی پہنچائی ہم نے طرف بندے اپنے کے جو پہنچائی“ (سورۃ النجم / 53 : 10)   ترجمہ از شاہ رفیع الدین محدث دہلوی۔
”پھر حکم بھیجا اللہ نے اپنے بندے پر جو بھیجا“(سورۃ النجم / 53 : 10)    ترجمہ از شاہ عبدالقادر شاہ صاحب
 لفظ ’’پہنچائی یا بھیجا‘‘واضح ثبوت ہے کہ کسی کے ذریعے پہنچائی یا بھیجی اور ذریعہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے۔ بھیجی بمطابق قرآن پاک کے
”نہیں پاتیں اس کو نظریں اور وہ پاتا ہے سب نظروں کو“ (سورۃ الانعام / 6 : 103)
قرآن پاک کی یہ آیت واضح ثبوت فراہم کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی کی نظریں نہیں دیکھ سکتی۔ یہی سوال ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کیا گیا کہ کیا حضو ر پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج میں اللہ تعالیٰ کو دیکھا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے قرآن پاک کی یہی آیت پڑھی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات تو بہت بڑی ذات ہے۔ بھلا اس ذات کو دو کمان کے فاصلے سے کیسے دیکھا جا سکتا ہے؟  اگر کوئی پہاڑ کو بھی دو کمان کے فاصلے سے دیکھے تو پہاڑ کا ذرا سا حصہ دیکھا جا سکے گا اور کسی کو ہاتھی ایک انچ کے فاصلے سے دیکھا یا جائے تو اسے کالے رنگ کی ایک دیوار کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا۔
یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی شکل میں دیکھا اس کی حقیقت یہ ہے کہ ساتویں آسمان پر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پنے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ جن کی شکل صورت بالکل حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسی تھی۔ آپ جناب حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضر ت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا نتیجہ ہیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ جناب حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شکل میں پیدا کیا۔
”اور البتہ تحقیق دیکھا ہے اس نے اس کو ایک بار اور۔13۔نزدیک سدرۃ المنتہیٰ کے 14۔ نزدیک اس کے ہے جنت الماویٰ۔15“
 مفہوم ان آیات کا یہ ہے کہ دیکھا ہے اس نے اسکو ایک بار جیسا کہ دیکھا ہے۔ نزدیک سدرۃ المنتہیٰ کے جو جنت(بہشت)کے قریب ہے۔اللہ تعالیٰ کا ایک انداز بیاں ہے کہ درمیان میں کہیں ایک لفظ اور کہیں پورے فقرے چھوڑ دددیئے جاتے ہیں۔ اس بندہ نے اس بارے میں ”قرآن پاک کاسمجھنا “کے عنوان سے ایک تحریر لکھی ہے جس میں اس بات کا ثبوت فراہم کیا گیا ہے ۔
معراج کے موقع کی آیات میں کہا جا  رہا ہے کہ دیکھا ہے اس کو ایک بار اور اس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ وہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے۔ وہ کون سا موقع ہے؟  اس بارے میں دیکھتے ہیں۔جب حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سب سے پہلے وحی اتری ”اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّک“تو اس وقت پہلی وحی کے موقع پر حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضر ت جبرائیل علیہ السلام کو پہلی دفعہ دیکھا کہ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کے دجود سے پورا آسمان بھرا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت غار حرا میں تھے۔ آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوف زدہ ہو کر گھر کی طرف بھاگے اور گھر جا کر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بتایا کہ میں نے ایسا دیکھاکہ ایک شخص کے وجودسے آسمان بھرا ہوا تھا اور اس مجھ سے یوں کہااقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّک“ سورۃ العلق کی پہلی پانچ آیات بتلائی اور فرمایا کہ شاید میں اب جلد فوت ہو جاؤں او ر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بخار ہو گیا۔ حضر ت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلی وغیرہ دی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوا پنے پھوپھی زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو توریت اور انجیل کا عالم تھا ۔تمام واقعہ اور وحی کے الفاظ بتائے تو ورقہ بن نوفل نے بتایا کہ یہ تو فرشتہ تھا اور یہ کہ آپ جناب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبوت کے لیے چن لیے گئے ہیں اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخالف ہونگے اور ہجرت بھی کرنی پڑے گی اور جہاد کا حکم بھی ہو گا۔کاش کہ میں اس وقت تک زندہ رہوں۔ ورقہ بن نوفل اس وقت بوڑھا ضیعف تھا۔ اس لیے ورقہ بن فوفل کو پہلا مسلمان کہا جا سکتاہے کہ اس نے سب سے پہلے نبوت کی تصدیق کی کہ جس وقت آپ جناب حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی علم نہیں تھاکہ میں نبی ہوں۔
سدرۃ المنتیٰ وہ حد ہے جہاں تک حضر ت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے جایا گیاکہ جس کے قریب جنت ہے۔
”جس وقت کہ ڈھانکا تھا بیری کو جو کچھ ڈھانک رہا تھا۔16۔ نہیں کجی کی نظر نے اور نہ زیادہ بڑھ گئی۔ 17۔تحقیق دیکھا اس نے نشانیوں پروردگار اپنے کی سے بڑی کو ۔18“
اللہ تعالیٰ کو نہ دیکھ سکنے کے بارے میں مزید دلائل:۔
”توریت:خُروج:باب 33 : 20۔اور یہ بھی کہاتُو میرا چہرہ نہیں دیکھ سکتا کیونکہ انسان مجھے دیکھ کر زندہ نہ رہے گا“
اور حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انسان تھے۔
”انجیل مقدس:یُوحنا:باب 1 : 18۔خدا کو کسی نے کبھی نہیں دیکھا“
فرشتوں نے بھی۔
القرآن
”اور جب آیا موسیٰ واسطے وعدے ہمارے کے اور کلام کیا اس سے رب اس کے نے کہا اے رب میرے دکھلا دے تو مجھ کو دیکھوں میں طرف تیر ی کہا اللہ نے ہر گز نہ دیکھ سکے گا تومجھ کو“ (سورۃ الاعراف / 7 : 143)
تفسیر ابنِ کثیر سورۃ النجم سے اقتباس:۔
”ایک مرتبہ حضرت مسروق رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا تُونے ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔ میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہاں جا رہے ہوـ؟ سنو! اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے‘‘

سوال:   جب حضور اکرم حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج پر آسمانوں کا سفر کیاتو کیا وہ سفر اپنے بدن سمیت کیا یا وہ خواب میں کیا ؟
 جواب:   آپ جنا ب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج کا سفر خواب میں دیکھا کہ قرآن پاک میں فرمایا گیا
”اور نہیں کیا ہم نے وہ نمود یعنی خواب جو دکھلائی تجھ کو مگر آزمائش واسطے لوگوں کے“ (سورۃ بنی اسرائیل   / 17 : 60)
قرآن پاک کی اس آیت مبارکہ سے یہ ثابت ہو گیا کہ وہ خواب تھا لیکن یا د رہے کہ نبی کا یہ خوا ب سچا تھا۔ بدن سمیت معراج نہ ہونے کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ بدن کو زندہ رہنے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہے جو اوپر خلامیں نہیں ہے ۔
توجہ:   قرآن پاک کی اس آیت کی طرف
”اورنہیں طاقت کسی آدمی کو کہ بات کرے اُ س سے اللہ مگر جی میں ڈالنے کر یا پیچھے پردے کے سے یا بھیجے فرشتہ پیغام لانے والا پس جی میں ڈال دیوے ساتھ حکم اسکے کے جو کچھ چاہتا ہے تحقیق وہ بلند مرتبہ حکمت والا ہے “ (سورۃ الشورا / 42 : 51)
اس آیت سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کو آمنے سامنے سے دیکھنے کی بات کوئی انسان نہیں کر سکتا۔دیکھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کوہ طور پر تجلی ڈالی تو 70انسان فوت ہو گئے تھے ۔ توجہ کریں قرآن کی اس آیت کی طرف فرمایا کہ
”نہیں پاتیں اس کو نظریں اور وہ پاتا ہے سب نظروں کو“ (سورۃ الانعام / 6 : 103)
مطلب یہ کسی بھی انسان یا حیوان کی نظر اللہ تعالیٰ کو دیکھ نہیں سکتی لہٰذا جس کے دیکھنے کی بات کی گئی وہ جبرائیل علیہ السلام تھے ۔

معراج سابقہ دور میں بھی کسی نبی کو ہواہے کہ انجیل مقدس میں تحریر ملتی ہے کہ
2۔ کرنتھیوں: باب 12 : 2۔میں مسیح میں ایک شخص کو جانتا ہوں۔چودہ برس ہوئے کہ وہ یکایک تیسرے آسمان تک اْٹھا لیا گیا۔ نہ مجھے یہ معلوم کہ بدن سمیت نہ یہ معلوم کہ بغیر بدن کے۔ یہ خدا کو معلوم ہے۔ 3۔ اورمیں یہ بھی جانتا ہوں کہ اْس شخص نے (بدن سمیت یا بغیر بدن کے یہ مجھے معلوم نہیں۔ خدا کو معلوم ہے۔)۔4۔ یکایک فردوس میں پہنچ کر ایسی باتیں سنِیں جو کہنے کی نہیں اور جن کا کہنا آدمِی کو روا نہیں۔

معراج کے بارے میں ایک بات مشہور کر دی گئی کہ پہلے پچاس نمازیں فرض تھیں اور بار بار آنے جانے میں پانچ پانچ کم ہوتی رہیں اور پانچ باقی بچیں ۔یہ واقعہ بائبل کے واقعہ سے متا ثر ہو کر بنایا گیا ہے کہ بائبل میں تحریر ہے جس کا پس منظر یوں ہے کہ جب فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے جب گائے کا بچھڑا تل کر اُن کے سامنے رکھا اور خوشخبری دی ۔ جب اُن فرشتوں سے پوچھا کہ تمہاری اور کیا مہم ہے تو انہوں نے بتلایا کہ ہم سدوم حضرت لوط علیہ السلام کی بستی یا شہر تباہ کرنے جا رہے ہیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اُن فرشتوں میں یوں مکالمہ ہو ا
”پَیدایش:باب 18 : 28۔ شاید پچاس (50)راستباز وں میں پانچ(5) کم ہوں۔ کیا اُن پانچ کی کمی کے سبب سے تُوتمام شہر کو نیست کریگا؟ اُس نے کہا اگر مجھے وہاں پینتالیس(45) ملیں تو میں اُسے نیست نہیں کرونگا ۔29۔پھر اُس نے اُس سے کہا کہ شاید وہاں چالیس(40) ملیں تب اُس نے کہا کہ میں چالیس کی خاطر بھی یہ نہیں کرونگا۔30۔ پھر اُس نے کہا خداوند ناراض نہ ہو تو میں کچھ اور عرض کروں۔ شاید وہاں تیس(30) ملیں۔ اُس نے کہا ۔ اگر مجھے وہاں تیس بھی ملیں تو بھی ایسا نہیں کرونگا۔31۔ پھر اُس نے کہا دیکھئے ! میں نے خداوند سے بات کرنے کی جرات کی۔ شاید وہاں بیس(20) ملیں۔ اُس نے کہا میں بیس کی خاطر بھی اُسے نیست نہیں کرونگا۔32۔ تب اُس نے کہا خداوند ناراض نہ ہو تو میں ایک بار اور کچھ عرض کروں۔ شاید وہاں دس(10) ملیں۔ اُس نے کہا میں دس کی خاطر بھی اُسے نیست نہیں کرونگا۔33۔جب خداوند ابراہام سے باتیں کر چکا تو چلا گیااور ابراہیم اپنے مکان کو لوٹا ۔“

٭٭٭٭٭٭٭٭



Monday, August 11, 2014

بائبل

BIBLE, By Muhammad Akbar
بائبل
تحریر و تحقیق: محمد اکبر


وراثت کے چند پہلو




Virasat key Chand Pehlu
By: Muhammad Akbar


PDF Link To Download File




وراثت کے چند پہلو


تحریر و تحقیق:


محمد اکبر، اللہ والے ، مظفرگڑھ
سورة النساءمیں وراثت کی تفصیل لکھی ہے لیکن یہ بندہ صرف وراثت کے چند پہلوؤں پر لکھنا چاہتا ہے کہ دادا فوت ہونے پرا س کے یتیم پوتے (جو کہ دادے کی زندگی میں یتیم ہو چکاہو)کو دادا کی وراثت میں سے حق ملے گا یا نہیں ؟ جبکہ یتیم بچوں کے چاچے زندہ ہیں۔
1۔ اس بارے میں علماءکا فتوی یہ ملتا ہے کہ چاچوں کے ہوتے ہوئے یتیم بچوں (پوتوں) کو کوئی حق وراثت نہیں ملے گا کیونکہ قریبی کا حق پہلے ہے اور یتیم پوتے بعیدی ہیں اس لیے ان کا وراثت میں کوئی حق نہیں۔
2۔ حکومت پاکستان نے اس بارے میں بمطابق فیصلہ سپریم کورٹ یہ فیصلہ دیا ہے کہ ایسے یتیم یا با لغ کہ جن (کا باپ فوت) ہو چکا ہو چاچے زندہ ہوں اُن کے دادا فوت ہونے کی صورت میں ان یتیم بچوں کو بھی دادا کی فوتگی پر وراثت میں حق ملے گا اس طرح کہ ان کا باپ زندہ تصور ہو کر اس کو اپنے بھائیوں کے برابر حصہ ملے پھر فوت شدہ تصور ہو کر وہی حصہ اس کی اولاد کو ملے یعنی یتیم بچوں کو یا دادے کے پوتوں کو۔
عام طور پر سننے میں آیا ہے کہ علماءکرام کا فتویٰ شریعت دین اسلام کے عین مطابق ہے اور حکومت پاکستان کا فیصلہ شریعت دین اسلام کے خلاف ہے۔اس بندہ نے اس بارے میں خوب غور وفکر کیا ہے کہ جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حکومت پاکستان کی سپریم کورٹ کا فیصلہ شریعت دین اسلام کے عین مطابق ہے اور علماءکا فتویٰ شریعت دین کے خلاف جس کے ثبوت میں بندہ دلائل سے بات کرتا ہے۔
دین اسلام میں کسی چیز کے بارے یا کسی بات کی بابت فیصلہ یا فتویٰ دینے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طبیعت اور صفات کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ یا فتویٰ دیا جائے گا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ جو فتویٰ یا فیصلہ ہم دے رہے ہیں اس سے اللہ تعالیٰ الٹا ہم سے ناراض ہو جائے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی طبیعت اور صفات کے خلاف فتویٰ یا فیصلہ دے دیں۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی طبیعت اور صفات کی دو باتیں تو ضرورذہن میں رکھی جائیں گی۔
1۔ ”اور یہ کہ اللہ نہیں ظلم کرنے والا واسطے بندوں کے“(سورة آل عمران 3 : 182) (سورة الانفال 8 : 51 )
2۔ ” مطلب ہمارا فرما برداری ہے معقول“(سورة النور 24 : 53 )
 3۔ ”اور حکم کریں ساتھ اچھی چیز کے (معقول) اور منع کریں نا معقول سے(سورة آل عمران  3 : 104 )
اللہ تعالیٰ کی دو صفات کھل کر سامنے آئیں۔
1۔ یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے پر ظلم نہیں کرتا۔
2۔ اللہ تعالیٰ نامعقول بات پسند نہیں کرتا۔
شریعت دین اسلام اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہے۔ اس لیے شریعت دین اسلام میں کہیں بھی کوئی ایسا حکم نہیں ہے کہ کسی انسان کے ساتھ ظلم کیا جائے یا نا معقول بات کہی جائے۔
تو سب سے پہلے یہ بندہ اپنے دلائل پیش کرتا ہے۔

دلیل نمبر1
 یہ دیکھا جائے تو علماءکا فتویٰ سرا سر ظلم ہے کہ ایک تو اُن بچوں کا والد فوت ہو گیا اور پھر فتوی کہ دادے کی وراثت میں سے حق نہ دیا جائے۔یہ یتیموں پر ظلم کرنے والی بات ہے۔ یہ کہ ایساہونا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہو سکتا۔لہٰذا علماءکا فتوی غلط ہے اور حکومت پاکستان کی سپریم کورٹ کا فیصلہ عین دین اسلام کے مطابق ہے۔

دلیل نمبر2
 اس طرح حکومت پاکستان کے فیصلے اور علماءکے فتوی پر خوب غور کرو کہ فیصلہ نا معقول ہے یا فتوی تو صاف ظاہر ہے کہ یہ فتوی نامعقول ہے اور سپریم کورٹ کا فیصلہ صاف اور ظاہری طور پر جائز اور معقول بات ہے۔ اللہ تعالیٰ معقول بات کی اجازت دیتا ہے نامعقول کی نہیں۔

دلیل نمبر3
یہ دلیل قرآن پاک کی رو سے ہے اوریہ دلیل حجت اتما م ہے کہ سورة یوسف 12 : 6 میں دادے اور پڑدادے کو باپ کہا ہے کہ فرمایا
اوپر دو باپ تیرے کے پہلے اس سے ابراہیم اور اسحاق“( سورة یوسف  12 : 6 )
حالانکہ عربی میں دادے کو جد وغیرہ کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے سورة یوسف میں یہ صرف اسی لیے لکھا کہ کل کو لوگ دادے پڑدادے کو باپ کی حیثیت سے خارج نہ کر دیں۔ دادا تو کیا پڑدادے اور پڑ پوتے میں بھی یہی معاملہ ہو تو وراثت پہنچے گی۔ اکثر انسان اپنی چار چار پیڑھی دیکھ لیتا ہے۔ وراثت اسی ترتیب سے ملے گی کہ درمیان والا فوت شدہ زندہ تصور ہو گا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس بارے میں مناظرہ کرنے کو تیار تھے کہ دادے پڑدادے باپ ہوتے ہیں۔

دلیل نمبر4
 یہ کہ دادا کا ایک یتیم پوتا ( لڑکا) زندہ ہو تو وہ دادا کلالہ (جس کا بیٹا نہ ہو وغیرہ)نہیں کہلا سکتا۔ تو پھر بھلا اس پوتے کو وراثت کے حق سے کیسے محروم کیا جا سکتا ہے۔

دلیل نمبر5
 دادی کے فوت ہونے پر اگر دادی کے یتیم پوتے زند ہ ہوں تو خاوند دادے کو چوتھائی ملا نہ کہ آدھا۔ (ابن کثیر)۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ یتیم پوتے کا رشتہ دادے سے خاص قریبی رشتہ ہے۔    

دلیل نمبر6
 اے اللہ کے نیک بندو ! اللہ تعالیٰ کی ذات تو وہ الرحمن والرحیم ذات ہے کہ جس نے وراثت میں دوسرے یتیم مسکین فقراءکا بھی حق رکھ دیا ہے۔
اور جب حاضر ہوںبانٹنے میں قرابت والے اور یتیم اور فقراءپس کچھ دو انکو اس میں سے اور کہو ان کو بات اچھی“(سورة النساء 4 : 8 )
تو پھر بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی دادے کے ایسے حقیقی پوتے کہ جن کا باپ فوت ہو گیا ہو۔ وہ بالغ ہوں یا یتیم وراثت کے حق سے محروم کر دے۔

 دلیل نمبر7
اے اللہ کے بندو! دیکھلاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کہاں لکھا ہے کہ میں دادے کے ایسے پوتوں کو کہ جن کا باپ مر گیا ہووراثت کے حق سے محروم کرتا ہوں۔ عقل کرو اے اللہ والو۔

دلیل نمبر8
 نرینہ اولاد کا ہونا باپ کا نام زندہ رکھنے والا کہلاتا ہے۔ نرینہ اولاد نہ ہو تو کہا جاتا ہے کہ فلاں کا نام ختم ہو گیا۔جس کا نام زندہ ہے وہ زندہ شمار ہو گا اور اپنا حق پائے گا پھر پوتے کو ملے گا۔ جیسے شہید کو مردہ مت کہو کہ وہ رزق پاتے ہیں اسی طرح جس کا نسب زندہ ہے وہ زندہ کہلائے گااور اپنا حق پائے گا۔یہ نام زندہ کہلانا صرف وراثت کا حق حاصل کرنے کے لیے کہلانا ہے۔
یاد رہے کہ کسی بھی شخص کو اپنی جائیداد کا 1 بٹا 3 حصہ تک وصیت کرنے کا اختیار ہے۔ خواہ غیروں کو دے خواہ اپنے غریب رشتہ داروں کو خواہ اپنی اولاد میں سے معذوریا غریب یا خدمت کے صلہ میں۔ صرف1بٹا3 حصہ۔
یہ کہ اگر کسی نے زندہ لاش دیکھنی ہوں تو ایسے شخص کو دیکھ لے کہ جس نے اپنی زندگی میں جائیدد کا ورثہ اپنی اولاد کے نام کر دیا ہو۔ زندہ تو اس لیے وہ زندہ ہے اور لاش(مردہ)اس لیے کہ مرنے کے بعد وراثت تقسیم ہوتی ہے جوہو چکی۔
کلالہ جس کی جائیداد جن لوگوں میں ورثہ کے طور پر تقسیم ہو نی ہے وہ تمام ایسے ہیں جیسے کلالہ کے بیٹے بیٹی۔ ان لوگوں پر کلالہ کی خدمت کرنا فرض بن جاتا ہے جییے بیٹابیٹی پر کیونکہ اس کی جائیداد کے وارث جو ٹھہرے۔
وصیت میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔کہ فرمایا
پس جو کوئی ڈرے وصیت کرنے والے سے کجی کو یا گناہ کو پس اصلاح کر دے درمیان ان کے پس نہیں گناہ اوپر اس کے تحقیق اللہ بخشنے والا مہربان ہے“(سورة البقرہ 2 : 182 )
ایک صحابی نے اپنے غلام کے لیے وصیت میں آزاد اور 100 اونٹ کہہ دئیے۔ بعد میں بیٹوں نے اعتراض کیا معاملہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس آیا آپ نے فرمایا زیادہ اونٹ کہے اور فرمایا 20 دے د و30 دے د و35 دے دو فرمایا40 اورپس اس کے بعد فرمان جاری ہوا کہ1بٹا3سے زیادہ کی وصیت نہ کی جائے۔ باقی تما م وارثوں میں تقسیم ہوا اورایک تہائی بھی بہت زیاد ہ ہے۔ کم کی وصیت کیا کریں۔ اس فرمان کی رو سے اگر کوئی کلالہ یہ وصیت کر دے کہ میرے مرنے کے بعد میرا سارا ور ثہ مسجد کا وغیرہ تو یہ غلط وصیت ہو گی۔ 1تہائی مسجد کا اور 2 تہائی وارثوں کا۔ زندہ منصف یا جج اس وصیت میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔
ایک اور معاملہ یہ کہ اگر کسی باپ نے اپنی زندگی میں کسی لڑکے کے مطالبے پر اس کو اپنی جائیداد سے رقم سے یا زمین کی صورت میں کافی کچھ دے دیا ہو لیکن با پ کی وفات کے پردہ پھر وراثت میں برابر کا حصہ مانگتا ہے تو وہ غلطی پر ہے کہ وہ باپ کی زندگی میں اپنی وراثت میں سے مکمل یا نا مکمل حصہ وصول پا چکا ہے۔ انجیل مقدس میں واقعہ لکھا گیا ہے۔
لوقا: باب 15:11۔پھر اس نے کہا کہ کسی شخص کے دو بیٹے تھے۔12۔ ان میں سے چھوٹے نے باپ سے کہا اے باپ! مال کا جو حصہ مجھ کو پہنچتا ہے مجھے دیدے۔ اس نے اپنا مال متاع انہیں بانٹ دیا۔ 13۔ اور بہت دِن نہ گذرے کہ چھوٹا بیٹا اپنا سب کچھ جمع کر کے دور دراز ملک کو روانہ ہوا اور وہاں اپنا مال بدچلنی میں اڑا دِیا۔ 14۔ اور جب سب کچھ خرچ کر چکا تو اس ملک میں سخت کال پڑا اور وہ محتاج ہونے لگا۔ 15۔پھر اس ملک کے ایک باشندہ کے ہاں جا پڑا۔ اس نے اس کو اپنے کھیتوں میں سور چرانے بھیجا۔ 16۔ اور اسے آرزو تھی کہ جو پھلِیاں سور کھاتے تھے انہی سے اپنا پیٹ بھرے مگر کوئی اسے نہ دیتا تھا۔17۔ پھر اس نے ہوش میں آ کر کہا میرے باپ کے بہت سے مزدوروں کو افراط سے روٹی ملتی ہے اور میں یہاں بھوکا مر رہا ہوں! 18۔ میں اٹھ کر اپنے باپ کے پاس جاؤں گا اور اس سے کہوں گا اے باپ! میں آسمان کا اور تیری نظر میں گنہگار ہوا۔19۔ اب اِس لائق نہیں رہا پھر تیرا بیٹا کہلاؤں۔ مجھے اپنے مزدوروں جیسا کرلے۔ 20۔ پس وہ اٹھ کر اپنے باپ کے پاس چلا۔ وہ ابھی دور ہی تھا کہ اسے دیکھ کر اس کے باپ کو ترس آیا اور دوڑ کر اس کو گلے لگایا اور چوما۔ 21۔ بیٹے نے اس سے کہا اے باپ! میں آسمان کا اور تیری نظر میں گنہگار ہوا۔ اب اس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلاؤں۔22۔ باپ نے اپنے نوکروں سے کہا اچھے سے اچھا لباس جلد نکال کر اسے پہناؤ اور اس کے ہاتھ میں انگوٹھی اور پاؤں میں جوتی پہناؤ۔23۔ اور پلے ہوئے بچھڑے کو لا کر ذبح کرو تاکہ ہم کھا کر خوشی منائیں۔ 24۔ کیونکہ میرا یہ بیٹا مردہ تھا۔ اب زِندہ ہوا۔ کھو گیا تھا۔ اب ملا ہے۔ پس وہ خوشی منانے لگے۔ 25۔ لیکن اس کا بڑا بیٹا کھیت میں تھا۔ جب وہ آ کر گھر کے نذدیک پہنچا تو گانے بجانے اور ناچنے کی آواز سنی۔ 26۔ اور ایک نوکر کو بلا کر دریافت کرنے لگا یہ کیا ہو رہا ہے؟ 27۔ اس نے اس سے کہا تیرا بھائی آ گیا ہے اور تیرے باپ نے پلا ہوا بچھڑا ذبح کرایا ہے کیونکہ اسے بھلا چنگا پایا ہے۔ 28۔ وہ غصے ہوا اور اندر جانا نہ چاہا مگر اس کا باپ باہر جا کر اسے منانے لگا۔ 29۔ اس نے اپنے باپ سے جواب میں کہا دیکھ اِتنے برسوں سے میں تیری خدمت کرتا ہوں اور کبھی تیری حکم عدولی نہیں کی مگر مجھے تو نے کبھی ایک بکری کا بچہ بھی نہ دِیا کہ اپنے دوستوں کے ساتھ خوشی مناتا۔ 30۔ لیکن جب تیرا یہ بیٹا آیا جس نے تیرا مال متاع کسبیوں میں اڑا دِیا تو اس کے لیے تو نے پلا ہوا بچھڑا ذبح کرایا۔ 31۔ اس نے اس سے کہا بیٹا! تو تو ہمیشہ میرے پاس ہے اور جو کچھ میرا ہے وہ تیرا ہی ہے۔ 32۔ لیکن خوشی منانا اور شادمان ہونا مناسب تھا کیونکہ تیرا یہ بھائی مردہ تھا۔ اب زندہ ہوا۔ کھویا ہوا تھا۔ اب ملا ہے۔
اس واقعہ میں آیت نمبر31 میں کہ” جو کچھ میرا ہے وہ تیرا ہی ہے“مطلب یہ کہ وراثت میں تیرے دوسرے بھائی کو کوئی حق نہ ہوگا اور یہ فقرہ ”میں آسمان کا اور تیری نظر میں گنہگار ہوا“مطلب یہ ہے کہ باپ کی زندگی میں وراثت کا حق مانگ کر لے چکنا گناہ ہوا۔ وراثت تقسیم کرنے میں اگر صرف دو بھائی ہوں تو وہ اپنی جائیداد اس طرح بانٹ سکتے ہیں جیسے توریت پیدائش میں ذکر ہے کہ حضرت ابرہیم علیہ السلام نے تقسیم کی اورحضرت لوط علیہ السلام نے مانگا۔
پیدایش:باب 13:9۔کیا یہ سارا مُلک تیر ے سامنے نہیں؟ سو تُو مجھ سے الگ ہو جا۔ اگر تُو بائیں جائے تو میں دہنے جاؤں گا اور اگر تُو دہنے جائے تو میں بائیں جاؤں گا۔۔۔11۔ سو لوط نے یردن کی ساری ترائی کو اپنے لیے چُن لیا اور وہ مشرق کی طرف چلا اور وہ ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔
 اسی طرح بڑا بھائی دو برابر حصہ کر دے او ر چھوٹا بھائی جو اسے پسند آئے مانگ لے اس طرح کوئی جھگڑا نہ ہو گا اور اگر بھائی زیادہ ہوں اور ضدی کہ ہر کوئی کہے میں فلاں حصہ لوں گا تو ان کا فیصلہ کرنے کے لیے الہامی کتاب بائبل میں قرعہ ڈالنے کا طریقہ درج ہے کہ فرمایاگیا۔
امثال :باب 18:18۔قرعہ جھگڑوں کو موقوف کرتا ہے اور زبردستوں کے درمیان فیصلہ کردیتا ہے۔
حِزقی ایل :باب45:1۔اور جب تم زمین کو قرعہ ڈال کر میراث کے لئے تقسیم کرو
اور توجہ خاص کر فرمایا
امثال :باب 12:22۔نیک آدمی اپنے پوتوں کے لئے میراث چھوڑتا ہے
اس تحریر سے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو سبق دیا ہے کہ وہ اپنی اولاد کے لئے میراث چھوڑ جائیں اور حاصل کرنے والوں کو سمجھانے کے لئے قرآن پاک میں یوں فرمایا گیا اور یہ برے لوگوں کی صفت بیاںفرمائی گئی۔
اور کھاتے ہو تم میراث کو کھانا پے درپے“(سورة الفجر 89 : 19 )
اور دیکھنے میں بھی آیا ہے کہ بعض لوگ باپ کے فوت ہونے کے بعد اپنی جائیداد فروخت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کا انجام خراب ہوتا ہے۔

وصیت کی اہمیت
سورة النساءمیں وراثت کے حصے تفصیل سے لکھ دئیے گئے ہیں لیکن اس سورة کی آیت 11میں وصیت کے بارے میں دو بار الفاظ آئے کہ
 ”پیچھے وصیت کے کہ وصیت کر جاوے ساتھ اس کے یا قرض کے “(سورة النساء  4 : 11 )
قرآن پاک کے ان الفاظ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ کہ جو تفصیل وراثت کے بارے میں لکھی گئی ہے کہ ایک مرد کا حصہ برابر دو عورتوں کے وغیرہ وہ پیچھے وصیت کے ہے ۔ اگر مرنے والا (فوت ہونے والا ) فوت ہونے سے پہلے وصیت کر گیا ہے تو پہلے وصیت پر عملدر آمد ہو گا ۔ پہلے فوت ہونے والے کی وراثت میں سے فوت ہونے والے پر اگر کوئی قرض ہے تو وہ قرض ادا ہو گا ۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں انسان کو جائیداد و مال و دولت کا وارث بنا یا ہے وہیں انسان کو یہ اختیار بھی دیا ہے کہ وہ وصیت کے ذریعے سے جائیداد اپنے وارثوں میں تقسیم کر دے ۔وصیت کر جانا تمام لڑائی جھگڑے مٹا ڈالتا ہے ۔ وراثت کے تقسیم میں وصیت پر عمل در آمد کا حق پہلے بنتا ہے اس کے متعلق دو ثبوت پیش کرتا ہوں ۔
1۔ ایک صحابی نے اپنے غلام کے لیے وصیت میں آزاد کرنا اور 100 اونٹ کہہ دئیے تو اُس صحابی کی وفات پر پہلے وصیت پر عمل کرتے ہوئے اس غلام کی آزاد کرنے کے ساتھ100 اونٹ دینے کا معاملہ پہلے آیا ۔
2۔ اگر کوئی شخص اپنے نافرمان بیٹے کو اپنی جائیداد سے عاق کر دیتاہے تو اس شخص کے بیٹے کو اس کے باپ کی وفات کے بعد اُس کے باپ کی وراثت میں سے کوئی حصہ نہیں دیا جاتا کیونکہ اس کا باپ وصیت کے ذریعے اسے عا ق کر گیا تھا۔ ثابت ہو اکہ وصیت پر عمل در آمد کا حق پہلے ہے اور بعد میں اس تقسیم کی ترتیب کا کہ ایک مرد برابر دو عورتوں کے ۔
کچھ لوگ اچانک فوت ہو جاتے ہیں اور کچھ بھی وصیت نہیں کر پاتے تو ان کی وراثت اُس ترتیب سے تقسیم کی جائے گی کہ جو قرآن پاک میں سورة النساءمیں لکھ دی گئی ہے ۔
وصیت کا اجرا وصیت کرنے والے کے فوت ہونے کے بعد کیا جائے گا کہ الہامی کتاب انجیل مقدس میں فرمایا گیا
عِبرانیوں: باب9: 17۔ اس لئے کہ وصیت موت کے بعد ہی جاری ہوتی ہے اور جب تک وصیت کرنے والا زندہ رہتا ہے اس کا اجرا نہیں ہوتا۔
عام لوگوں کے لیے قرآن پاک سورة النساءمیں وصیت کرنے کے بارے میں جو الفاظ ہیں وہ یوں کہ
 ”پیچھے وصیت کے کہ وصیت کر جاوے ساتھ اس کے یا قرض کے “(سورة النساء 4 : 11 )
 لیکن کلا لہ شخص کے بارے میں خاص الفاظ کا اضافہ لکھا گیا
نہیں ضرر پہنچانے والا کسی کو “ (سورة النساء  4 : 12 )
کلالہ شخص کے وارثان میں کیونکہ دوسرے لو گ بھی شامل ہوتے ہیں اس لیے کلالہ شخص کو خاص ہدایت کی گئی کہ وہ کسی وارث کو وصیت میں نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔ وصیت یوں کر سکتا ہے کوکہ فلاں جائیدا د فلاں کی اور فلاں جائیداد فلاں کی وغیرہ کسی وارث کو جائیداد سے محروم رکھتے ہوئے وصیت نہیں کر سکتا اگر کلالہ شخص کسی وارث کو محروم رکھتے ہوئے وصیت کرے گا تو قرآن کے مطابق
 ”پس جو کوئی ڈرے وصیت کرنے والے سے کجی کو یا گناہ کو پس اصلاح کر دے درمیان ان کے پس نہیں گناہ اوپر اس کے تحقیق اللہ بخشنے والا مہربان ہے“ (سورة البقرہ 2 : 182 )
وصیت کے ذریعے جب کوئی شخص اپنے نا فرمان بیٹے کو عاق کر سکتاہے تو وصیت کے ذریعے اپنے کسی بہت زیا دہ خدمت کرنے والے بیٹے کو وراثت میں سے کچھ زیادہ حصہ بھی دے سکتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی شخص کے پا س ایک لاکھ مالیت کی بندوق ( منقولہ جائیداد ) ہے اوروہ شخص وصیت کر دے کہ میرے فوت ہونے پر یہ بندوق میرے فلاں بیٹے کی ہو گی تو اس کے فوت ہونے پر وہ بندوق اُسی بیٹے کو ملے گی جس کے بارے میں وصیت میں کہا گیا تھااور دوسرے وراثت میں حق دار اُس بندوق کی قیمت کا حصہ نہ مانگ سکیں گے۔ وصیت اور حصوں کی تقسیم کہ مرد برابر دو عورتوں کے وغیرہ کی حیثیت ایسے ہے جیسے وضو کے بارے میں کہ پانی کے ہونے کی صورت میں تیمم کی حیثیت ختم ہو جاتی ہے ۔ اسی طرح وصیت ہونے کی صورت میں سورة النسا ءمیں تحریر حصوں کی حیثیت ختم ہو جا تی ہے ۔
         
سوال: وصیت کے بارے میں یوں ہے کہ وصیت فقروں غلاموں اور غیروں لیے ہوتی ہے حقیقی وارثوں کے لیے نہیں ہوتی۔ آپ نے حقیقی وارثوں (بیٹوں ،بیٹیوں ) کے بارے میں بھی وصیت کرنے کا حق دے دیا ۔
جواب: عاق کرنا وصیت ہے کہ جس سے حقیقی وارث کو عاق کیا جاسکتا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حقیقی وارثوں کے لیے وصیت کی جاسکتی ہے ۔ بائبل کی کتاب پیدایش میں حضرت یعقوب علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد کو وصیت کے ذریعے زیادہ میراث ان الفاظ میں دیا۔
پیدایش:باب 48:22۔اور میں تجھے تیرے بھائیوں سے زیادہ ایک حصہ جو میں نے اموریوں کے ہاتھ سے اپنی تلوار اور کمان سے لیا دیتا ہوں